For whom the day ends in despair?

For whom the night wanders and whirls?

For whom the day ends in despair?

For whom the birds mourn and sing?

For whom the empty edifices scream?

For whom the city weeps silently?

For whom the sky fades in anguish?

//

What keeps them awake

In the darkest of nights

From shuting the eyes

From letting the mind

and heart asleep?

//

In whose parting

The stars ignite?

For whose glimpse

The moon beseech to shine bright?

For whom

The silence

Remain silent?

//

For whom?

The wretched night wanders and whirls?

For whom the day ends in despair?

//

The cursed tranquility

Of the morning breeze

The doomed silence

Of the night speaks

//

The haunted tales

Of missing daughters

From nameless cities

To well known streets

For what crimes our daughters are killed?

For them the night wanders and whirls!

For them the day ends in despair!

(photo credits: anonymous)

#poem #wordcraft #words #abductions #honour

Advertisements

Kingdom of infidelity 

(Engraved upon the heart is the love of my country that neither hatred nor prejudice can supersede. It might be overshadowed for some reason but it is always there. But that doesnt mean i should pretend not to have heard, not to have seen)

I live in a country of wordly gods   Kingdom of infedelity, runs by mobs

The law is sacred than the human blood
No one adheres to God’s word

The poor screams their heart aloud
The deafening silence of the rich around

Mercy for the ones who kill mercilessly
Forgiven forgotten their crimes ultimately

The law is the air the murderers breathe
Their refuge shelter protector underneath

Terrorists roam free of fear
Empowered and strengthened with special care

Where Mashals are lynched and Qandeels are killed
Where darkness prevails and graves are build

Where Salam is forsaken where Qadri is glorified
Where Zia is alive and edhi has died

I live in a country of spiteful preachers
Wordly gods and the worst creatures 

#poem #poetry #wordcraft 

بے شرم کہیں کی

Originally shared with humsub.com.pk

کچھ دن پہلے ماہرہ کی سیگریٹ کے کش لگاتی تصویر دیکھی، پہلے تو چشم نازک کو یقین کرانے میں کئی لمحے لگے۔ یہ بھلا خرد کو کیا ہوگیا ہے؟ وہ تو معصوم تھی، اسلامی روایات کی علمبردار تھی۔ زمانے کی ہوا لگی اور اس نے تو تمام حدیں ہی توڑ ڈالیں۔ ایک تو عورت ہوکے سیگریٹ پینا پھر ننگی کمر ہونا اور تو اور بھارتی لونڈے کے ساتھ؟ بہت دعا کی کہ کاش یہ تصاویر فوٹوشاپڈ ہوں مگر زندگی ماہرہ کے چہرے سے معصومیت کا لبادہ اتارنا چاہتی تھی۔ نہ اسلامی روایات کی پاسداری نہ مشرقی اصولوں پہ کاربند، ملک و قوم کا نام خاک میں ملا دیا۔

کہاں منہ چھپائیں گے اب؟ کسی نہ کام کا چھوڑا ماہرہ نے ہمیں۔ وہ تو ہماری عزت تھی! ہماری غیرت تھی! پھر یہ کام کیوں کیا؟ الغرض وہ دن قیامت صغریٰ سے کم نہ تھا۔ ہر جگہ ماتم کا ساعالم تھا۔ بہت دنوں تک طبیعت بوجھل رہی۔ کسی کام میں دل ہی نہیں لگا۔ بار بار ماہرہ کا سوٹا سامنے آجاتا تھا۔ ناجانے کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے ہماری غیرت کو۔

دو دن پہلے ایک دوست نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل کے گاؤں میں سولہ سالہ لڑکی کو سر عام کپڑے پھاڑ کے پورے گاؤں میں چلایا گیا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ لڑکی نے مدد کے لئے کافی در کھٹکٹائے مگر کوئی مدد کے لئے نہ آیا۔ لڑکی نے کسی گھر میں گھس کر بچانے کی کوشش کی وہاں سے بھی نکال کر لے آئے۔ پورے گاؤں نے تماشہ دیکھا تھا۔ بعض ذی شعور لمحہ بہ لمحہ وڈیو بھی بناتے رہے۔ مسلسل ایک گھنٹے چلانے کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔ لڑکی کی ماں ڈھونڈتے ہوئے لڑکی تک پہنچی تو بس یہی پوچھ سکی کہ میری بیٹی کہ ساتھ کیا کیا ہے؟ جواب میں ایک غیرت مند مسلمان نے صرف مسکرانے پہ ہی اکتفا کیا۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ ذاتی دشمنی کی بنا پر بھائی کی سزا بہن کو دی گئی۔

اب ذاتی لڑائی تھی تو کوئی کیا کر سکتا ہے؟

کیوں پرائے جھگڑوں میں اپنا خون پسینہ صرف کریں؟

اور ویسے بھی یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔

اپنے کام سے کام رکھنا ہی عقلمندی ہےآج کے دور میں۔

مگر ماہرہ نے اچھا نہیں کیا ایسے بھلا ملک و قوم کی عزت سر عام کون روندتا ہے؟

بےشرم کہیں کی۔

نظم

سنا ہے مقتل بھی سرخرو ہے سنا ہے قاتل بھی باوضو ہے

سنا ہے اپنے وطن میں اب کہ لہو کا پیاسہ ہوا عدو ہے

وہی ہیں منصف وہی گواہ ہیں وہی ستمگر ہیں میر محفل

وہی ہیں زندان کے محافظ وہی ہیں زندہ رتوں کے قاتل

عجیب رسم و رواج ہے اب وطن میں جینا محال ہے اب

زباں بریدہ ہے آنکھ پرنم، سانس لینا دشوار ہے اب

کسے پکاریں کہاں چلائیں، کوئی خدارا ادھر بھی دیکھے

زمیں تماشہ بنی ہوئی ہے زمیں پہ بستے خدا بھی دیکھے

یہ چند آہیں ہیں اپنا زیور فقط یہ آنسو نصیب میں ہیں

یہی ملا ہے وطن سے اپنے، یہ شہر یاراں کی دولتیں ہیں

For non Urdu readers.

Suna hy maqtal bhi surkhuro hy, suna hy qatil bhi bawudhu hy

Suna hy aony watan main abky, lahu ka piyasa hua ado hy

Wohi hain munsif, wohi gawah hain wohi sitamgar hain meer e mehfil

Wohi hain zindan ky muhafiz wohi hain zinda rotu ky qatil

Ajeeb rasm o rawaj hy ab watan main jeena muhal hy ab

Zubaan bureeda hy ankh purnam, sans lena dushwar hy ab

Kisi pukarain kahan chal’lain, koi khudara idhr bhi dekhy

Zameen tamasha bani hoi hy zamee pe basty khuda bhi dekhy

Ye chand ahain hain apna zeewar, faqat ye anso naseeb main hain

Yehi mila hy watan sy apny, ye shehr e jana ki dol’tain hain

ایدھی 

(If only I knew the art of poetry, I would have written a great poem to meet the greatness of Edhi sb. )

اندھیر رتیاں مٹاتا ایدھی

سحر زمیں پہ بساتا ایدھی

اداس لمحوں کو روند کر

خوشی لبوں پہ تھا لاتا ایدھی

غریب پرور تھا بندہ ایدھی

کفیل کتنوں کا خود تھا ایدھی

پھٹا پرانا تھا جوڑا اس کا

خدا کا بندہ عجیب ایدھی

گلے لگاتا تھا ان کو ایدھی

دلوں میں ان کو بساتا ایدھی

زمانہ پھیرے ہے منہ جن سے

انہی کو اپنا بناتا ایدھی

سڑک پہ بیٹھا بھی دیکھا ایدھی

سوالی بنتا بھی دیکھا ایدھی

تپتی دھوپوں میں پیڑ جیسا

سایہ کرتا بھی دیکھا ایدھی

دکھے ہووں کی دوا تھا ایدھی

مسیحا ٹوٹے دلوں کا ایدھی

فقط یہ کہنا ہی رہ گیا ہے

محبتوں کی دعا تھا ایدھی

#poetry #poem #Urdu #Edhi #Philanthropist #Peace #love #humanity #humanityfirst 

#PeopleOfMyLand #MeryLog 

A tale of brutal murder. 

13th April, 2017. The day Mashal Khan was lynched to death in the premises of his University by an angry mob over false accusations of blasphemy. Here’s the story of a crime never committed.

Echoes a tale of brutal murder

A boy who stood and refused to surrender

Wild beasts, not a reminent of humanity

Satans in disguise reflecting insanity

Mashal, the illuminous star of the darkened world

Lynched to death, abusively hurled

Scars on the body and the soul; bruised

For the crime never committed but unjustly accused


Nothing but silence greeted the death

Clichéd moans but none out of breath

A wake up call went in vain

The alleys of Mardan mourn in pain

To put an end the henious practice

The grieving father awaits the justice

O Mahsal, O resident of the celestial land

My words for thee, for thee I stand

#NeverForget #MashalKhan #poem #words #peace #love #13-4-2017

#peopleofmyland #merylog

سفر نامہ : لاہور میں بیتی ایک رات 

لاہور اور میرا تعلق چند گھنٹوں پہ ہی محیط ہوتا ہے. کسی نہ کسی کام کا بہانہ واپس انہیں گلیوں اور بازاروں میں لے آتا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہوجاتی ہے. پھر چاہیں آپ ہزار کوشش کر لیں لاہور کا ناسٹلجیا آپ کی جان نہیں چھوڑتا.

سارے سفر میں ہمارے سر پہ رہنے والے سورج نے لاہور پہنچتے ہی ہم سے منہ موڑ لیا تھا. بھلا سورج سے زیادہ اپنے غروب ہونے کی جلدی کسے ہوتی ہے؟ مگر یہ ایک نیا لاہور تھا جو میری آنکھوں کے سامنے رات کی چادر اوڑھے ہوئے تھا.

ابھی لاہور پہنچے کچھ ہی پل ہوئے تھے کہ لاہور نے اپنے ہونے کا احساس دلانا شروع کر دیا تھا. وہ مناظر مجبور کر رہے تھے کے میں اپنی تمام تر مصروفیات ترک کرکے بس انہیں ہی دیکھوں . یہی لاہور سے گلہ ہے وہ آپکو مجبور کرتا ہے کہ بس اسے تکتے رہیں. اس کے پرانے بازاروں کو اس کی ویران گلیوں کو، اس کی ہزار ہا سال سے کھڑی سینکڑوں راز چھپائے ان عمارتوں کو جو آپ سے بس آپکا وقت مانگتی ہیں. آپکی توجہ مانگتی. اور میرے پاس وقت ہی تو نہیں تھا.

پرانی انارکلی میں گاڑی کی رفتار خودہی آہستہ ہوگئی تھی. جیسے کہہ رہی ہو کہ اس کا عروج تو دیکھ نہیں سکے زوال کا عروج ہی دیکھلو. دیکھو ان چوباروں کو جو آج بھی دلوں میں کھلبلی مچا دیتے ہیں. وہ وہیں تھے آج بھی. ان کی حالت انکی داستان غم سنانے کےلیے کافی تھی . اندھیروں میں ڈوبے ہوئے مگر ایسا ہمیشہ سے تو نہیں ہوگا ایک زمانے میں وہ بھی روشن ہونگے. روشن تو خیر اب بھی تھے. لوگوں کا رش شائد پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا تھا. مختلف ریسٹورنٹ جو کھل گئے تھے. ایسے کہ گویا پورا شہر ہی وہاں دیسی پکوان کا مزہ اڑا رہا ہو. مگر وہ ہماری منزل نہ تھی. سو بس خاموشی سے گزرتے چلے گئے.

لاہور کی سڑکیں سست پڑ رہی تھیں. خاموشی آہستہ آہستہ لاہور کو گھیر رہی تھی. مگر داتا دربار کا منظر کچھ اور ہی دکھا رہا تھا. وہاں زندگی پوری آب وتاب سے روشن تھی. ہجوم تھا جو دربار کے دہانے پہ بیٹھا تھا. سنا ہے دربار رات کو لوگوں کی بھیڑ سے بھر جاتا ہے. یہ بھی سنا ہے کہ رات آپ کے رازوں کو ڈھانپ لیتی ہے. دربار کی رات بھی ایسی ہی تھی. اعتبار سے بھری ہوئی.

کچھ دیر مزید چلے تو سامنے مینار پاکستان نہایت ادب سے کھڑا تھا. اندھیرے میں روشن مینار کی لائٹس اسے خوبصورت ترین شاہکار دکھا رہی تھیں. مگر وہ تو میری محدود سوچ تھی. ادھر بادشاہی مسجد اپنی تمام تر راعئنائی کے ساتھ میری توجہ کھینچنے میں کامیاب ہوگئی تھی. وہ میری سامنے تھی. جسے میں نے ہمیشہ تصاویر میں یا پھر بہت دور سے دیکھا تھا. وہ میرے سامنے تھی. کوئی ایسا جادوئی طلسم تھا جو احاطہ کئے ہوئے تھا. جو نظر کو بھٹکنے نہیں دیتا تھا. مگر وہ میری منزل نہیں تھی.

میری منزل لاہور فوڈ اسٹریٹ تھی. جسے پہلے بس انسٹاگرام میں ہی دیکھا تھا. موڈ کھلے آسمان تلے دیسی کھانے کا ہوا تو رخ حویلی کی طرف کیا اور تھوڑے نخرے دکھانے کے بعد تیسری منزل پہ جگہ مل ہی گئی تھی. مگر اب کھانا کھانا مشکل تھا. اب کی بار بادشاہی مسجد میرے نیچے تھی. میں ایک ایک گنبد، ایک ایک کونے کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی. وہ تھی ہی اتنی خوبصورت. اسکے صحن میں پھیلی پیلی روشنائی رات کو ایک نیا حسن دے رہی تھی. وہ کسی جادو کی نگری سے کم نہ تھی.

ایک بج رہا تھا مگر لاہور میں زندگی اب بھی رواں دواں تھی. مگر رفتار آہستہ تھی. ایک خاموشی تھی جو کاٹ رہی تھی. اگلی منزل ائیرپورٹ تھا. وہ بھی عجیب جگہ تھی. کوئی بچھرنے والے تھے تو کوئی ملنے والے تھے. کوئی اداسی سے خاموش تھا تو کوئی مارے جذبات کے قہقہے لگا رہا تھا. وہاں دو زندگیاں تو تھیں مگر زندگی میں توازن تھا.

تین بجے ہماری واپسی کا سفر شروع ہوا. اب کے لاہور خاصا ویران تھا. روشنیاں مدھم ہو چکی تھیں. راستہ بٹھکنے کی صورت میں کوئی بتانے والا بھی نہ تھا. تھے تو بس سڑک کنارہ سوئے ہوئے لوگ. یہ منظر میرے لیئے نیا نہیں تھا. نیا تو وہ سوال بھی نہیں تھا جو ہمیشہ فٹ پاتھ پہ سوئے لوگوں کو دیکھ کر ابھرتا ہے. اتنے شور میں کوئی کیسے سو سکتا ہے؟ یا شائید اندر کا شور اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ باہر والا کچھ اثر نہیں کرتا.

چند گھنٹے لاہور کے آنگن میں گزارنے کے بعد معلوم ہو چکا تھا کہ لاہور کی راتیں واقعی بہت خوبصورت ہوتی ہیں. ایسا لطف دیتی ہیں کہ زندگی کی قیمت پوری ہوجاتی ہے. احسن سعید نے ایک بار کہا تھا ” آدھی رات کا لاہور پوری زندگی یاد رہتا ہے” غلط نہیں کہا تھا.

#travelogue #lahore #traveling

#peopleofmyland #merylog

Hope

And when doors are closed 

And light fades away

And when silent screams

Of the heart tremble

For what was left

Is all lost.

There,

My dear,

In the blurred vision

Of your dismay

A door awaits

For you to enter

Where lies the peace

Your heart beseech 

#poem #words #wordcraft #wordart #freeverse #poetry #art 

Struggle

And look at the sky

At night 

Bringing sparkles 

From a far away land 

The tiny ones 

Attracting the eyes

With enchanting glows

For who could have imagined

Deep down 

What twinkle above 

Are the souls; broken

And the hearts; wretched

Struggling to survive 

At their worst. 

#poem #words #wordplay #wordcraft #freeverse #night #stars #hope #believe #live #peace 

The world needs more creative thinkers. 

(Originally shared with The Voice Today) 

Right from the beginning, there’s a hierarchy of subjects in schools everywhere in the world where science is prefered over arts and languages. Arts is never taken seriously in schools and it is often considered ‘a waste of time’ by many qualified teachers. While I was in school in Pakistan, we only had art classes once a week which were cancelled quite often because the teacher was ‘absent’ and hence we always ended up doing math. 
The problem is not just how schools have shifted their focus on science but how the creative skills of students are being brutally killed. 
On top of that, students are taught in a way where there is no freedom to make mistakes or learn from them. Hence, this develops long term fear in students. Fear of being wronged. Fear of being judged. Fear of being compared with others. Fear of not being good enough. And then comes the social pressures…the questioning eyes asking for a justification for choosing a line of study other than science. 
Often, parents find it difficult to support their children. It’s not very common for artists to mention how proud their parents are of them for studying arts, music or literature. 
I myself studied science not beacuse I didn’t have other options but because science was the only option. I’m not against the science subject but creativity is equally important as science and should be treated in that way. 
The world needs more creative thinkers. Whether it’s poetry, literature, music or visual arts, these help in moulding one’s mind towards a positive direction. It enhances the cultural beauty to understand ourselves more independently. 
As humans, we all have some sort of creative light and it’s up to us whether we choose to let it shine or burn out. I strongly believed in Picasso’s saying “everyone is born an artist”. The problem is only to remain one. Lets not ignore creativity in the hustle and bustle of science. 
#art #crafts #science #literature #school #teachers #students #creative #creativethinking #education #pakistan #london #loveforallhatredfornone