مناجات

فقط مل جاٸے مجھ کو بھی یہ رازٍبندگی تیرا

پگھل کر روح رہ جاۓ جو دل میں ذکر ہو تیرا

کہاں بربادٸٍ دل کا میں نوحہ زیرٍ لب لاٶں؟

میں اپنی زیست کی ناٶ کو کس ساحل پہ ٹہراٶں؟

کہ جس بھی بوجھ میں بہہ کر یہ دل جو ہار بیٹھا ہے

شکستہ فاش ہے لیکن مسلسل آہ بھرتا ہے

جو رستہ بھول بیٹھے تھے اسی کی کھوج میں نکلے

بہت تاخیر سے لیکن یہ دل کے قافلے نکلے

اسیری میں جو تڑپاتی ہے یادٍ یار بس تُو ہے

جو اک یہ یاد ہے تیری وہی گو آرزو بھی ہے

تیرے در کے سوالی ہیں تیری بخشش کے طالب ہیں

کہ قسمت پھیر دے اپنی یہ دونوں ہاتھ کھالی ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s