کیا عجب ہے خدایا کہ تو چپ رہا

اب تو نوحہ بھی لکھتے قلم رک گئے

اب تو لفظوں کے معنے بھی ہسنے لگے

ظلم کی حد کی بھی کوئی حد ہے مگر

اب تو ذنداں کے دکھ حد سے بڑھنے لگے

پر یہ ٹوٹا ہوا سانس چلتا رہا

کیا عجب ہے خدایا کہ تو چپ رہا…

اور لوگوں کی چیخیں بلند ہوگئیں

خون پھر شہر یاراں میں بہتا رہا

ماں تڑپتی رہی غم کو سہتی رہی

باپ کی آنکھ پانی ٹپکتی رہی

ہر گلی میں ماتم تھا جاری رہا

کیا عجب ہے خدایا کہ تو چپ رہا…

کچرا کنڈی سے لاشیں نکلتی رہیں

تیری ہوا کی بیٹی سسکتی رہی

ہر گھڑی کو تڑپتی بلکتی رہی

اور برپا قیامت تھی ہوتی رہی

ظلم دھڑتی پہ کب سے یہ ہوتا رہا

کیا عجب ہے خدایا کہ تو چپ رہا….

میرے لوگوں کو چن چن کے مارا گیا

ان کا جینے کا حق ان سے چھینا گیا

ان کے گھر بار و دل کو جلایا گیا

دیس سے ان کو ان کے نکالا گیا

تیرے مذہب کی خاطر یہ ہوتا رہا

کیا عجب ہے خدایا کہ تو چپ رہا…

یہ وطن ہے کہ ذنداں کی تاریکیاں

لب پہ پابندیاں پاوں زنجیریاں

ایک اپنے نصیبوں میں سب آگیا

شہر جاناں اور اس کی یہ ہمجھولیاں

ان کی تحقیر پر دل یہ کٹتا رہا

کیا عجب ہے خدایا کہ تو چپ رہا..

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s