سفر نامہ : لاہور میں بیتی ایک رات 

لاہور اور میرا تعلق چند گھنٹوں پہ ہی محیط ہوتا ہے. کسی نہ کسی کام کا بہانہ واپس انہیں گلیوں اور بازاروں میں لے آتا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہوجاتی ہے. پھر چاہیں آپ ہزار کوشش کر لیں لاہور کا ناسٹلجیا آپ کی جان نہیں چھوڑتا.

سارے سفر میں ہمارے سر پہ رہنے والے سورج نے لاہور پہنچتے ہی ہم سے منہ موڑ لیا تھا. بھلا سورج سے زیادہ اپنے غروب ہونے کی جلدی کسے ہوتی ہے؟ مگر یہ ایک نیا لاہور تھا جو میری آنکھوں کے سامنے رات کی چادر اوڑھے ہوئے تھا.

ابھی لاہور پہنچے کچھ ہی پل ہوئے تھے کہ لاہور نے اپنے ہونے کا احساس دلانا شروع کر دیا تھا. وہ مناظر مجبور کر رہے تھے کے میں اپنی تمام تر مصروفیات ترک کرکے بس انہیں ہی دیکھوں . یہی لاہور سے گلہ ہے وہ آپکو مجبور کرتا ہے کہ بس اسے تکتے رہیں. اس کے پرانے بازاروں کو اس کی ویران گلیوں کو، اس کی ہزار ہا سال سے کھڑی سینکڑوں راز چھپائے ان عمارتوں کو جو آپ سے بس آپکا وقت مانگتی ہیں. آپکی توجہ مانگتی. اور میرے پاس وقت ہی تو نہیں تھا.

پرانی انارکلی میں گاڑی کی رفتار خودہی آہستہ ہوگئی تھی. جیسے کہہ رہی ہو کہ اس کا عروج تو دیکھ نہیں سکے زوال کا عروج ہی دیکھلو. دیکھو ان چوباروں کو جو آج بھی دلوں میں کھلبلی مچا دیتے ہیں. وہ وہیں تھے آج بھی. ان کی حالت انکی داستان غم سنانے کےلیے کافی تھی . اندھیروں میں ڈوبے ہوئے مگر ایسا ہمیشہ سے تو نہیں ہوگا ایک زمانے میں وہ بھی روشن ہونگے. روشن تو خیر اب بھی تھے. لوگوں کا رش شائد پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا تھا. مختلف ریسٹورنٹ جو کھل گئے تھے. ایسے کہ گویا پورا شہر ہی وہاں دیسی پکوان کا مزہ اڑا رہا ہو. مگر وہ ہماری منزل نہ تھی. سو بس خاموشی سے گزرتے چلے گئے.

لاہور کی سڑکیں سست پڑ رہی تھیں. خاموشی آہستہ آہستہ لاہور کو گھیر رہی تھی. مگر داتا دربار کا منظر کچھ اور ہی دکھا رہا تھا. وہاں زندگی پوری آب وتاب سے روشن تھی. ہجوم تھا جو دربار کے دہانے پہ بیٹھا تھا. سنا ہے دربار رات کو لوگوں کی بھیڑ سے بھر جاتا ہے. یہ بھی سنا ہے کہ رات آپ کے رازوں کو ڈھانپ لیتی ہے. دربار کی رات بھی ایسی ہی تھی. اعتبار سے بھری ہوئی.

کچھ دیر مزید چلے تو سامنے مینار پاکستان نہایت ادب سے کھڑا تھا. اندھیرے میں روشن مینار کی لائٹس اسے خوبصورت ترین شاہکار دکھا رہی تھیں. مگر وہ تو میری محدود سوچ تھی. ادھر بادشاہی مسجد اپنی تمام تر راعئنائی کے ساتھ میری توجہ کھینچنے میں کامیاب ہوگئی تھی. وہ میری سامنے تھی. جسے میں نے ہمیشہ تصاویر میں یا پھر بہت دور سے دیکھا تھا. وہ میرے سامنے تھی. کوئی ایسا جادوئی طلسم تھا جو احاطہ کئے ہوئے تھا. جو نظر کو بھٹکنے نہیں دیتا تھا. مگر وہ میری منزل نہیں تھی.

میری منزل لاہور فوڈ اسٹریٹ تھی. جسے پہلے بس انسٹاگرام میں ہی دیکھا تھا. موڈ کھلے آسمان تلے دیسی کھانے کا ہوا تو رخ حویلی کی طرف کیا اور تھوڑے نخرے دکھانے کے بعد تیسری منزل پہ جگہ مل ہی گئی تھی. مگر اب کھانا کھانا مشکل تھا. اب کی بار بادشاہی مسجد میرے نیچے تھی. میں ایک ایک گنبد، ایک ایک کونے کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی. وہ تھی ہی اتنی خوبصورت. اسکے صحن میں پھیلی پیلی روشنائی رات کو ایک نیا حسن دے رہی تھی. وہ کسی جادو کی نگری سے کم نہ تھی.

ایک بج رہا تھا مگر لاہور میں زندگی اب بھی رواں دواں تھی. مگر رفتار آہستہ تھی. ایک خاموشی تھی جو کاٹ رہی تھی. اگلی منزل ائیرپورٹ تھا. وہ بھی عجیب جگہ تھی. کوئی بچھرنے والے تھے تو کوئی ملنے والے تھے. کوئی اداسی سے خاموش تھا تو کوئی مارے جذبات کے قہقہے لگا رہا تھا. وہاں دو زندگیاں تو تھیں مگر زندگی میں توازن تھا.

تین بجے ہماری واپسی کا سفر شروع ہوا. اب کے لاہور خاصا ویران تھا. روشنیاں مدھم ہو چکی تھیں. راستہ بٹھکنے کی صورت میں کوئی بتانے والا بھی نہ تھا. تھے تو بس سڑک کنارہ سوئے ہوئے لوگ. یہ منظر میرے لیئے نیا نہیں تھا. نیا تو وہ سوال بھی نہیں تھا جو ہمیشہ فٹ پاتھ پہ سوئے لوگوں کو دیکھ کر ابھرتا ہے. اتنے شور میں کوئی کیسے سو سکتا ہے؟ یا شائید اندر کا شور اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ باہر والا کچھ اثر نہیں کرتا.

چند گھنٹے لاہور کے آنگن میں گزارنے کے بعد معلوم ہو چکا تھا کہ لاہور کی راتیں واقعی بہت خوبصورت ہوتی ہیں. ایسا لطف دیتی ہیں کہ زندگی کی قیمت پوری ہوجاتی ہے. احسن سعید نے ایک بار کہا تھا ” آدھی رات کا لاہور پوری زندگی یاد رہتا ہے” غلط نہیں کہا تھا.

#travelogue #lahore #traveling

#peopleofmyland #merylog

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s