محبت نہیں، عزت تو کر ہی سکتے ہیں.

پہاڑوں کے بعد اگر میں نے کسی سے عشق کی حد تک محبت کی تو وہ اردو زبان تھی. عشق تو پھر جان لیوا ہی ہوتا ہے چاہے پہاڑوں سے ہو یا اپنی زبان سے. اور پھر اگر محبوب روٹھ جائے تو یہ تکلیف ہر تکلیف سے بڑھ کر ہوتی ہے . پچھلے دو سال سے مولونا شیرازی کا قول جو مجھے ٹکٹکی باندھے حسرت کی نگاہ سے دیکھے جارہا ہے، کچھ یوں ہے “اردو کیا ہے؟ ایک کوٹھے کی طوائف ہے، مزہ ہر کوئی لیتا ہے محبت کم ہی کرتے ہیں”

اسے پڑھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں اردو کی شیرینی سے تو لطف اندوز ہوئی ہوں، اس کی ذومعنی باتوں نے مجھے گھنٹوں اپنی اسیری میں بھی لئے رکھا ،اس کی چاشنی اور مٹھاس ابھی بھی اپنے جوبھن پر ہے، مگر محبت تو نہیں ہوئی.یہ احساس ندامت پہلے پسندیدگی میں بدلہ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے عشق ہو گیا.”مگر اپنی زبان سے تو سب ہی محبت کرتے ہیں. اس میں کونسی کمال کی بات ہے؟ ” لوگ کہتے ہیں.تو اس کیلیے میرا بھی وہی جواب ہوگا جو لیلی کی عام شکل و صورت پر کسی نے دیا تھا کہ لیلی کی خوبصورتی عام آنکھ سے نہیں بلکہ مجنوں کی آنکھ سے دیکھی جاتی ہے. اور پھر عشق کرنا اگر اپنے اختیار میں ہوتا  تو انجام جاننے کے باوجود کوئی نہ کرتا.

گزشتہ ایک لمبے عرصہ سے میں اردو کے بارہ میں لکھنا چاہتی تھی، اس کے ساتھ ہوئی زیادتی پہ معافی مانگنا چاہتی تھی، اس کی خستہ حالی پہ رونا چاہتی تھی اس کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پہ افسوس کرنا چاہتی تھی مگر اردو تو مجھ سے روٹھی ہوئی تھی. الفاظ تھے کہ میرا ساتھ ہی نہیں دیتے تھے. قلم میں وہ تاثیر ہی نہ تھی. نہایت تگ و دو کرنے کے بعد کچھ کہنے کے قابل ہوئی تو جو لکھا وہ سامنے ہے.

وہ زبان جو ہماری شناخت ہے، جس کو بنیاد بنا کر ہم نے الگ ملک مانگا تھا. جس کو بولنے والے معززین کہلاتے تھے.جس کے ایک نخریلی محبوبہ کی طرح ناز اٹھائے جاتے تھے، اب نہ جانے کونسے چوراہوں پہ دھکے کھا رہی ہے. کہاں کہاں نہ جانے اسے دھتکارا گیاتھا. بہت سی جگہوں سے اسے ذلیل کر کے نکالا گیا تھا اور بہت سی جگہوں پہ ابھی رسوا ہونا باقی تھا.مگر اردو تو ہم سے روٹھ گئی نا.وہ جو کبھی ہمارا فخر تھی آج اس کو بولتے ہوئے کہیں نہ کہیں شرمندگی محسوس کرتے ہیں.کہنے والے کہتے ہیں کہ آپکی تاریخ، آپ کی ثقافت، آپ کا رہن سہن سب آپ کی زبان میں محفوظ ہوتے ہیں اور جب آپ کی زبان بولنے والےختم ہوجاتے ہیں آپ کی زبان بھی ختم ہوجاتی ہے.مگر کہنے والے تو ہمیشہ ہی کچھ نہ کچھ کہتے رہتے ہیں. سننے والے ابھی پیدا نہیں ہوئے.

میرے لکھنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ میں آپ سے یا آپ دوسروں  سے بہتر ہیں.  نہ میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ زبردستی اس کو بولیں، اس سے محبت کریں یا اس سے عشق کریں. ہر گز نہیں. مگر میں اتنا ضرور چاہتی ہوں کہ کبھی نہ کبھی یہ آپ کی زبان ہی تھی. کبھی نہ کبھی اچھی تو لگی ہوگی.محبت نہ سہی عزت تو کر ہی سکتے ہیں؟ یقین کریں اردو زبان بھی ہم سے یہی توقع لگائے بیٹھی ہے کہ ہم شاید اس کا کھویا ہوا مقام دے ہی دیں.ورنہ اگر اس کے بس میں ہوتا تو یہ بھی ہماری طرح دھتکارے جانے کے بعد کبھی اپنی شکل نہ دکھاتی.اردو تو ہمیں اپنا مانتی ہے اب وقت ہے ہم بھی اسے اپنا مان لیں.

Advertisements

2 thoughts on “محبت نہیں، عزت تو کر ہی سکتے ہیں.”

  1. اچھی سوچ ہے
    بحیثیت ہماری زبان ہونے کے اس کی عزت اور اس کی تمام تر خوبصورتی رعنائی نزاکت اور خاص کر دلفریبی کی بہرحال قدر کرنی چاہیے۔
    اس کے ساتھ ساتھ اس وجہ سے بھی اسے رواج دینے کی ضرورت ہے کہ امام الزمان کی بیشتر کتب اسی زبان میں ہیں۔
    (معذرت کے ساتھ) اردو کی ترویج کی ترغیب میں انگریزی لفظ کلچر کے استعمال نے مزہ ذرا خراب کردیا۔ اس کی جگہ اردو لفظ ثقافت کا استعمال میری نظر میں زیادہ مناسب تھا۔ بہرحال بہت خوب!

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s