مخالفینِ احمدیت کے نام

جو لکھنا چاہوں تو لکھ ہی ڈالوں سوال سارے جواب سارے

تمہی پشیمان ہوگے یارو، جو کھول دوں میں حساب سارے 

نکال پھینکا ہے ہم کو ایسے کہ جیسے اپنی زمیں نہیں ہے

یہ شہر اپنا نہیں ہے ہرگز نہ لوگ اپنے نہ گھر ہمارے 

دلوں میں نفرت رہی ہمیشہ، ہماری الفت  حقیر تھی کیا؟ 

بس ایک حسرت ہے اپنےاندر کبھی لگو تم گلے ہمارے 

نکال دیکھو صدی کو پچھلی، خودی بتاؤ یہ کیا ہوا ہے بلندیوں کو ہیں چھو رہے ہم، مگر کھڑے تم گڑھے کنارے

تمہاری گلیاں اندھیر نگری، ہمارے شہروں میں روشنی ہے 

جہاں پہ تم تھےوہیں کھڑے ہو مگر رواں ہیں قدم ہمارے 

تمہی تھے منصف، تمہی گواہ تھے تمہی نے تھا فیصلہ سنایا

مگر ہمارا خدا ہوا تھا, اسی نے بگڑے سبھی کام سنوارے

وفا کی مشعل جلائی ہم نے لہو سے اپنے جنوں سے اپنے 

چلیں ہیں مقتل میں سر اٹھا کر بزرگ بچے جواں ہمارے

وہ زخم دے کر سمجھ رہا تھا شکست کھائی ہے ہم نے، لیکن 

یہ زخم اپنے بھرے ہیں ایسے کہ کھل اٹھے ہیں گلاب سارے 


#Ahmadiyyat #Thoughts #UruPoetry

Advertisements

2 thoughts on “مخالفینِ احمدیت کے نام”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s