سراپا نور تھا چہرہ سراپا نور وجود ان کا
محمد نام تھا ان کا ، امیں صادق لقب ان کا

وہ جن پر توڑ ڈالے ہر ستم زمانے کے دشمن نے
تو معافی عام تھا بدلہ عجب دستور تھا ان کا

سلام ان پر درود ان پر صدا رحمت رہے ان پر
ذکر کرتا ہے یہ دن رات ، ہر ادنیٰ غلام ان کا

رہا باقی نہ دیں کا کچھ،فقط بس نام تھا باقی
تو ایسے میں بشارت دی کہ آئے گا مسیح ان کا

تو اہلِ فارس سے مرد آیا ہدا کو اپنے وہ ساتھ لایا
بنایا اس نے انہیں بھی عاشق کبھی نہ لیتے جو نام ان کا

کہا ہے کفر اس کی عاشقی کو عقل کے دشمنوں نے لیکن
وہ کر گیا ہے بیان اپنی کافری کو عظیم ڈھنگ سے
اگر یہ عشق کفر ہے تو، یقین سمجھو بڑا ہوں کافر
کہ خالقِ کل جہاں کے بعد، میں ہوگیا ہوں تمام ان کا

(O our Lord! Shower Your eternal blessings on Your Prophet- In this world and in Hereafter)

Advertisements