image

“میرے خدایا تیری طلب میں میری ادائیں جو تجھ کو “بھائیں تو بخش دینا…
میرے خدایا!
میرے خدایا تیری طلب ہی تو زندگی ہے کہ جس کی خاطر، میں جی رہی ہوں
میں چل رہی ہوں تیری ہی راہ پر
چلتے چلتے میں گر جو جاوٴں سنبھال لینا مرے خدایا
بخش دینا کہ بخش دینا ہے تیرا شیوہ
میرے خدایا میرے گناہوں کا بار سر پہ پڑا ہوا ہے
کہ میں مسافر شکست خوردہ
در پہ تیرے پڑی ہوئی ہوں
آنکھ اشکوں سے دل امید سے پُر ہے
“میرے خدایا تیری طلب میں میری ادائیں جو تجھ کو “بھائیں تو بخش دینا

میرے خدایا حقیر احقر ہوں تیری بندی بھٹک رہی ہوں کہ كهو نہ جاؤں
تو تھام لے ہاتھ میرے مالک کہ تیرے ہونے کا احساس ہی ہے
کہ ہر آن چلنے کی جستجو ہے
مگر یہ رستہ کٹھن بہت ہے کہیں میں رستے سے ہٹ نہ جاؤں
اگر ہٹوں تو یہ جان کر مجھ کو بخش دینا کہ تيرى بندی حقیر احقر بھٹک گئی تھى جو راستے سے
کہ پھر سے در پر تیرے کھڑی ہوں
“میرے خدایا تیری طلب میں میری ادائیں جو تجھ کو “بھائیں تو بخش دینا…

Advertisements