کبھی جو دیکھتی ہوں میں

کبھی جو دیکھتی ہوں میں

وہاں جلسے جب ہوتے ہیں

وه محفل جب بهى سجتى ہے

ملائک کے حصاروں میں

وه مىرى جان سے پيارے

جو هم سےدور بستے ہیں

هميں جب ياد كرتےہیں

تو دل کچھ بجھ سا جاتا ہے

نمی آنکھوں پہ چھاتی ہے

انہیں ملنے کی چاہت میں

یہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

دل امید سے پُر ہے

يقين محكم دعاوں پر

کہ وہ دن … ایک دن شائد

یہ بستی خود بھی دیکھے گی

عجب هى  شان سے آقا

ہمارے بیچ آئیں گے

زمین ربوہ كى بھی آخر

نظارے ایسے دیکھے گی

خوشی میں جھومے گائے گی

کہ هم ہجرت زدوں کا بهى

وصال یار ہو گا هى

وصالِ یار بھی ایسا

نہیں تمثیل ہو جس کی

وجودِ پاک جب ان کا

ہمارے روبرو ہوگا

آنکھیں آنسووں سى پُر

اور دل حمد سى بهرا ہوگا

Advertisements